اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، ایسے حال میں کہ پوری دنیا میں یوم انہدام بقیع کو ان مزارات کا غم منایا جارہا ہے جنہیں وہابی جہل و ظلم کا نشانہ بنا کر شہید کیا گیا تھا اور خاص طور پر عاشقان اہل بیت علیہم السلام کے دل ان ویران قبروں کو دے کر جہل کے خنجر سے قطعہ قطعہ ہورہے ہیں، شمالی افریقہ کے مشہور ترین امام زادے حضرت عبدالسلام الاسمر کے مزار کو بھی وہابی جاہلیت کا نشانہ بنایا گیا، مزار کو منہدم کیا گیا اور 30 محبان اہل بیت (ع) کو قتل کیا گیا جبکہ 212 افراد زخمی ہوئے۔ اور تو اور وہابی دہشت گردوں نے قبر شریف کو کھول دیا اور جسد مطہر کی بے حرمتی کی۔عبدالسلام الاسمر ریحانۃالرسول امام حسن مجتبی علیہ السلام کے پوتوں میں سے ہیں اور ان کا حرم لیبیا میں شمال افریقہ کی سب سے بڑی زيارتگاہ سمجھا جاتا ہے جہاں محبین اہل بیت توسل اور زيارت کے لئے آتے ہیں لیکن آج یہ مزار پوری طرح منہدم کیا گیا ہے اور اس عظیم مصیبت نے عالم اسلام کو حیرت اور غم و غصے میں مبتلا کردیا ہے۔

لیبیا کے 30 شیعیان آل محمد (ص) کی شہادتاس ہولناک حادثے میں 30 لیبیائی مسلمان شہید اور 212 افراد زخمی ہوئے جنہیں اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے جن میں سے بہت سوں کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ وہابی مفتیوں نے حالیہ برسوں میں متعدد بار اس امامزادہ کے حرم شریف کو منہدم کرنے کے فتوے دیئے ہیں لیکن لیبیا کے مسلم عوام وہابی مفتیوں کے ان فتووں کے مخالف تھے اور وہ مزار کی حفاظت کررہے تھے چنانچہ دہشت گرد اپنے مفتیوں کے فتوے پر عمل کرنے میں ناکام رہے تھے تاہم اب جبکہ لیبیا نیٹو، امریکہ اور بعض عرب ممالک کی مداخلت کی بنا پر عدم استحکام اور بدامنی کا شکار ہوچکا ہے وہابی دہشت گردوں کو بھی یہ ہولناک اقدام انجام دینے کا موقع مل چکا ہے۔

امامزادہ عبداللہ کا حرم کب تعمیر ہوا تھا؟امامزادہ عبدالسلام الاسمر کا حرم 800 برس قبل تعمیر ہوا ہے اور شمالی افریقہ میں اہل بیت (ع) کے تاریخی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ مزار دارالحکومت طرابلس سے 160 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع زلیتن نامی شہر میں واقع ہے جو وہابی مفتیوں کے دباؤ کے تحت دہشت گردوں کے حملے کا نشانہ بنا اور اس نواسۂ رسول (ص) کے قبر اور جسم مبارک کی توہین کی گئی۔

علم کے دشمنوں نے کتب خانہ بھی نذر آتش کیاامامزادہ عبدالسلام الاسمر کے حرم شریف کے ساتھ لیبیا کا سب سے بڑا کتب خانہ واقع ہے جس میں اسلامی کتب اور ہزاروں برسوں پرانی تاریخی دستاویزات محفوظ کی گئی ہیں لیکن اطلاعات کے مطابق علم دشمن دہشت گردوں اور اسلامی تاریخ اور آثار کو مٹانے والے وہابیوں نے اس کتب خانے سے تاریخی آثار، دستاویزات کو چوری کیا اور اس کو آگ لگائی۔

واضح رہے کہ عراق پر تسلط پانے کے بعد امریکیوں نے ان ہی دہشت گردوں کے توسط سے اس ملک کے تاریخی ورثے کو غارت کرایا اور پھر امریکیوں نے اس ورثے کو سستی قیمت پر خرید کر امریکہ منتقل کیا چنانچہ عین ممکن ہے کہ امریکہ اور نیٹو والے لیبیا میں بھی اپنے مفت کے بندوں کے توسط سے اس ملک کا تاریخی ورثہ لوٹنے میں مصروف ہوچکے ہوں اور اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ دہشت گرد کتب خانے میں موجودہ کتب اور دستاویزات کو چوری کرکے لے گئے اور عمارت کو آگ لگا دی۔

لیبیائی دارالحکومت میں سادات کی درجنوں قبروں پر انتہاپسند وہابیوں کے حملےاطلاعات کے مطابق لیبیا میں بدامنی کے آغاز سے ہی وہابی انتہاپسندوں کی طرف سے دسیوں سادات کی قبور پر حملے ہوئے ہیں اور سینکڑوں تاریخی اور اسلامی آثار کو نیست و نابود کیا گیا ہے اور قبروں کو کھول کر ان میں مدفون بزرگوں کی توہین کی گئی ہے اور گذشتہ جمعہ کے روز بھی وہابی دہشت گردوں نے حسنی سید "الشعاب الدہمانی" سمیت دسیوں سادات کی قبریں منہدم کی ہیں جبکہ یہ تمام قبریں طرابلس میں واقع ہیں۔


یاد رہے کہ اہل بیت (ع) اور ان کی اولاد کو تمام افریقیوں کے نزدیک خاص حرمت و عظمت سے دیکھا جاتا ہے اور یہ مزارات تمام لیبیائیوں کی زیارتگاہوں کی حیثیت رکھتے ہيں گو کہ حال ہی میں لیبیا میں امریکہ اور نیٹو کے آنے کے ساتھ ساتھ ان کے کٹھ پتلی وہابی بھی فعال ہوگئے ہیں۔
.................
/110
اس خبر کی تصحیح کی گئی